زندہ رہنا ہے تو طاقتور بھی بنو اور سمجھ دار بھی
بہت پرانی بات ہے، تین گہرے دوست تھے: مسٹر لوہا، مسٹر شیشہ اور مسٹر اچار۔ مسٹر لوہا لوہے کا بنا تھا، مسٹر شیشہ شیشے کا اور مسٹر اچار اچار کا۔ یہ غریب لوگ تھے جو کوئی کام نہیں کر سکتے تھے، اور دیو کے بڑے قلعے کے پہلو میں ایک چھوٹی سی جھونپڑی میں رہتے تھے۔
وہ دیو کے باورچی خانے میں جا کر کھانا کھاتے اور پھر اپنی چھوٹی جھونپڑی میں لوٹ آتے۔ لیکن ایک دن جب وہ کھا رہے تھے تو دیو کی بیوی نے انہیں باورچی خانے میں دیکھ لیا۔ وہ غصے میں آ گئی اور کہا کہ آئندہ یہاں مت آنا۔

اگلے دن وہ پھر آئے اور باورچی خانے میں کھانے لگے، مگر اس نے انہیں دیکھ لیا، اور اس بار وہ بہت غصے میں تھی۔ وہ بھاگے، لیکن وہ ان کے پیچھے لپکی اور اس بار مسٹر شیشہ اس کے ہاتھ آ گیا۔ اس نے اس پر پھونک ماری۔ مسٹر شیشہ ہوا میں اڑا، نیچے گرا، ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا اور مر گیا۔ اس کے دوست بہت اداس ہوئے، مگر اس کے لیے کچھ نہ کر سکے۔

اگلے روز مسٹر لوہا اور مسٹر اچار پھر وہاں گئے اور کھانے لگے، اور وہ پھر ان کے پیچھے پڑ گئی۔ وہ بھاگ نکلے مگر وہ ان کا پیچھا کرتی رہی اور اس بار مسٹر اچار کو پکڑ لیا۔ اس نے پھونک ماری تو وہ ہوا میں اڑا، نیچے گرا، چٹخ کر ٹوٹ گیا اور مر گیا۔ مسٹر لوہا بہت غمگین بھی تھا اور غصے میں بھی، اور وہ بدلہ لینا چاہتا تھا۔

اگلے دن مسٹر لوہا دیو کے باورچی خانے میں جا کر کھانے لگا۔ دیو کی بیوی نے اسے دیکھا اور پوچھا کہ کیا وہ بھی اپنے دوستوں کی طرح مرنا چاہتا ہے۔ مسٹر لوہا بولا کہ تم مجھے مار نہیں سکتیں۔ اس نے پھونک ماری، مسٹر لوہا ہوا میں اڑا اور نیچے گرا، مگر مرا نہیں، کیونکہ وہ لوہے کا بنا تھا۔ اس نے پہلی بار سے زیادہ زور سے پھونکا، پھر بھی وہ نہ مرا۔ اس نے ایک بار اور کوشش کی، لیکن اس بار پھونکتے پھونکتے اس کا منہ پھٹ گیا اور مسٹر لوہا اس پر ہنس پڑا۔

وہ اپنا منہ سلوانے درزی کے پاس گئی۔ اس کے بعد مسٹر لوہا کی چھوٹی جھونپڑی پر پہنچی اور آواز لگائی: “اگر مرد ہے تو باہر نکل!” مسٹر لوہا اپنی چھوٹی جھونپڑی سے باہر آیا، اس نے پھر پھونک مارنے کی کوشش کی، مگر اس کا منہ دوبارہ پھٹ گیا۔ مسٹر لوہا پھر اس پر ہنسا۔ وہ بہت غصے میں آ گئی اور منہ دوبارہ سلوانے کے لیے ایک بار پھر درزی کے پاس چلی گئی۔


وہ اسے مار تو نہ سکی، مگر اس نے سوچا کہ جب وہ اس کے باورچی خانے میں آئے گا تو اسے پکڑ لے گی۔ چنانچہ اگلے دن مسٹر لوہا باورچی خانے گیا تو دیو کی بیوی نے اسے پکڑ کر ایک مضبوط بوری میں ڈالا، بوری کو پھانسی کی رسی سے کس کر باندھ دیا، اور اپنی بیٹی میمونہ کو مسٹر لوہا کی نگرانی پر بٹھا دیا۔

دیو کی بیوی مسٹر لوہا کو پکانا چاہتی تھی اور اپنے پورے خاندان کو اسے کھانے کی دعوت دینا چاہتی تھی۔ اس نے بیٹی کو تاکید کی کہ خبردار، بوری مت کھولنا۔ پھر وہ رشتے داروں کو رات کے کھانے پر بلانے کے لیے گھر سے نکل گئی۔
مسٹر لوہا نے اسے یہ کہتے سن لیا تھا کہ وہ اسے کھانا چاہتی ہے۔ وہ سوچنے لگا کہ بوری سے کیسے نکلے۔ اس نے زور زور سے چیونگم چبانا شروع کی اور کہنے لگا: “لال گم، ممم، یم یم! ہرا گم، ممم، یم یم! نیلا گم، ممم، یم یم!” اور یہ بار بار دہراتا رہا۔ خوش قسمتی سے دیو کی بیٹی (میمونہ) کا بھی چیونگم کھانے کو جی چاہ گیا، سو اس نے مسٹر لوہا سے کہا کہ مجھے بھی ایک ٹکڑا دے دو۔

مسٹر لوہا نے کہا کہ میں تمہیں گم نہیں دے سکتا، کیونکہ بوری بندھی ہوئی ہے۔ اس نے کہا کہ تم بوری میں ایک چھوٹا سا سوراخ کر لو، مگر وہ بولی کہ میں ایسا نہیں کر سکتی، کیونکہ امی نے حکم دیا ہے کہ بوری نہ کھولنا۔ مسٹر لوہا ایک منٹ رکا رہا، پھر اس نے دوبارہ کہا: “لال گم!!! ممم، یم یم! ہرا گم!!!! ممم، یم یم! نیلا گم!!!!! ممم، یم یم!” آخرکار وہ مان گئی کہ ہاں، میں ایک چھوٹا سا سوراخ کر دیتی ہوں۔
اس نے چھوٹا سا سوراخ کیا، پھر بولی: “مجھے گم کا ایک ٹکڑا دو، پلیز۔” مگر مسٹر لوہا نے کہا کہ میں گم باہر نہیں نکال سکتا، سوراخ بہت چھوٹا ہے۔ اس نے سوراخ کو بڑا کیا اور پوچھا: “اب دو گے گم، پلیز؟” لیکن اس نے پھر کہا: “نہیں، نہیں دے سکتا، سوراخ ابھی کافی بڑا نہیں ہے!” اس نے سوراخ اور بڑا کیا، مگر مسٹر لوہا اس وقت تک نہ مانا جب تک سوراخ اتنا بڑا نہ ہو گیا کہ وہ خود اس میں سے نکل سکتا۔

جب دیو کی بیوی اپنے خاندان کے ساتھ لوٹی تو میز پر کھانا پہلے ہی سجا ہوا تھا۔ دیو کی بیوی نے کہا کہ میری بیٹی لاجواب ہے، اس نے مسٹر لوہا کو پکا بھی دیا۔ سو سب کھانے بیٹھ گئے۔

لیکن کھانے سے فارغ ہونے کے بعد دیو کی بیوی فریج کے پاس گئی، فریزر کھولا تو اسے اپنی بیٹی کا سر نظر آیا۔ وہ چیخ اٹھی: “نہیںںںںں؟!؟” اور رونے لگی، جبکہ مسٹر لوہا ہنستا ہوا دیو کے گھر کی چھت پر بھاگ گیا۔
وہ اس کے پیچھے چھت پر پہنچی، مگر مسٹر لوہا نے اس کا مذاق اڑایا اور بولا: “یہ میمونہ کی قمیض ہے”، اور قمیض اس کی طرف پھینک دی۔ وہ بلک بلک کر رو رہی تھی۔ پھر وہ بولا: “یہ میمونہ کا فراک ہے”، اور وہ بھی اس کی طرف پھینک دیا۔ پھر کہا: “یہ میمونہ کی نیکر ہے”، اور وہ بھی اس کی طرف اچھال دی۔

آخرکار مسٹر لوہا بہت دور کسی جگہ بھاگ گیا، اس اطمینان کے ساتھ کہ اس نے اپنے دوستوں کی موت کا بدلہ لے لیا ہے اور دیو کی بیوی نے اپنی سب سے پیاری چیز کھو دی ہے۔
اس کہانی کا سبق یہ ہے:
